ٹرمپ کا تمام مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ
ایران سے معاہدہ تبھی ہوگا جب پاکستان اور سعودی عرب ابراہم ایکارڈز پر دستخط کریں گے ،امریکی صدر
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ابراہم ایکارڈز (اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے معاہدے) سے جوڑتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت کئی اہم مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد بیک وقت ابراہم ایکارڈز پر دستخط کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے ایک طویل بیان میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز پاکستان، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات ، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں واضح مؤقف اپنایا کہ امریکہ کی جانب سے اس انتہائی پیچیدہ معمے کو حل کرنے کے لیے کی جانے والی تمام تر کوششوں کے بعد، اب یہ لازمی ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم، بیک وقت ابراہم ایکارڈز کا حصہ بنیں اور اس پر دستخط کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا یہ تصفیہ اس صورت میں تاریخ کا ایک عظیم ترین واقعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کا حصہ بنیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ایک یا دو ممالک کے پاس ایسا نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ ہوگی تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن اکثریت کو اس کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ اس عمل کی شروعات سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فوری دستخط کے ساتھ ہونی چاہیے، جس کے بعد دیگر ممالک ان کی پیروی کریں۔ انہوں نے انتباہی انداز میں کہا کہ جو ممالک اس کا حصہ بننے سے انکار کریں گے، وہ اس وسیع تر علاقائی معاہدے سے باہر رہ جائیں گے کیونکہ ان کا انکار ‘بدنیتی’ کو ظاہر کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے ان ممالک کی فہرست بھی شیئر کی جو پہلے ہی اس معاہدے کا حصہ ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ابراہم ایکارڈز ان ممالک کے لیے مالی، اقتصادی اور سماجی طور پر ایک بڑا ‘بوم’ ثابت ہوا ہے۔
موجودہ حالات میں جاری جنگ اور تنازعات کے باوجود کسی بھی رکن ملک نے اس معاہدے کو چھوڑنے یا اس پر نظرثانی کرنے کا اشارہ تک نہیں دیا۔
ٹرمپ نے تہران کے ساتھ جاری بات چیت کے حوالے سے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ یا تو سب کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے دوبارہ جنگی محاذ پر واپس جانے کی دھمکی بھی دی۔
ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان دستاویزات پر حتمی دستخط ہو جاتے ہیں، تو خطے کے کئی رہنما ایران کو بھی ابراہم ایکارڈز کا حصہ بنتے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔