ایرانی صدرکا 87 روز بعد ملک میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
طویل ترین ڈیجیٹل ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی شہریوں کو جنگ کی تازہ ترین صورتحال اور اپڈیٹس حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فائل فوٹو
ہتران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کو فوری طور پر بحال کرنے کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا ہاؤس ‘مہر نیوز ایجنسی’ نے وزارت مواصلات کے ایک باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر پزشکیان کی جانب سے یہ اہم ترین حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں حکام کو ملک میں انٹرنیٹ بلاک ڈاؤن ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضع رہےانٹرنیٹ کی مانیٹرنگ کرنے والے عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایرانی حکام نے ملک بھر میں تقریباً 87 روز سے زائد عرصے تک جزوی اور مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر رکھا تھا۔
طویل ترین ڈیجیٹل ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی شہریوں کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی بمباری کے دوران تازہ ترین صورتحال اور اپڈیٹس حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انٹرنیٹ کی طویل بندش کے باعث ان ایرانی کاروباری اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید ترین مالی نقصان پہنچا جن کا زیادہ تر دارومدار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر تھا۔