افزودہ یورینیم گھر میں ہی رہے گی۔ ایرانی سفارتخانے کا دوٹوک جواب

افزودہ یورینیم ایران میں محفوظ ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا

May 26, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے سے متعلق بیان پر افریقی ممالک میں قائم ایرانی سفارتخانوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم ملک کے اندر محفوظ ہے اور کہیں منتقل نہیں کیا گیا۔

گھانا میں قائم ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “افزودہ یورینیم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی”، جبکہ امریکی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔

ادھر کینیا میں ایرانی سفارتخانے نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اب تک “نیوکلیئر ڈسٹ” کے تصور کے وہم میں مبتلا ہیں۔ سفارتخانے کے بیان میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا گیا کہ ماضی میں بھی امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہا۔

بیان میں صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ “پچھلی بار جب آپ نے اصفہان سے نیوکلیئر ڈسٹ نکالنے کی کوشش کی تھی تو آپ اپنے 10 سے 12 فوجی طیارے گنوا بیٹھے تھے، جن کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر تھی۔”

ایرانی سفارتخانوں کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک بار پھر بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔