امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ
اگر معاہدہ نہ ہوا تو معاملہ دوسرے طریقے سے ختم کریں گے۔ امریکی صدر
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب ہیں،ایران نے یقین دہانی کرائی ہےکہ وہ ایٹمی ہتھیار بھی نہیں خریدےگا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہم نے ایرانی فوج کے مکمل ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا، ایرانی فوج کا ایک حصہ نسبتاً “اعتدال پسند”ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں جلدی میں نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک ’’بہترین معاہدہ‘‘ کرے گا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو ’’ہم واپس جا کر اسے فوجی طور پر ختم کر دیں گے‘‘۔ ان کے مطابق وہ معاہدہ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس سے ’’بہت سی جانیں بچ سکتی ہیں‘‘ اور اس کے ذریعے ’’آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولی جا سکتی ہے۔
انہوں نے ایران کی قیادت کو ’’انتہائی سخت مذاکرات کار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آہستہ آہستہ اپنے مقاصد حاصل کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس میں وقت لگتا ہے، میں جلدی میں نہیں ہوں۔ اگر آپ جلدی کریں گے تو اچھا معاہدہ نہیں کر سکیں گے۔ ہم آہستہ آہستہ مگر یقین کے ساتھ وہ حاصل کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں، اور اگر نہ ملا تو ہم اسے کسی اور طریقے سے ختم کر دیں گے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیارپورٹ کےمطابق مجوزہ ایران امریکہ سمجھوتےمیں آبنائے ہرمز پر ایران کو زیادہ اختیارات ملنےکا امکان ہے،ایران کوجہازوں کی درجہ بندی،تلاشی اورپابندیوں کا اختیارمل سکتا ہے،امریکہ 60 روز میں 12 ارب ڈالر کےمنجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے میں مدد دے گا،آبنائے ہرمز سے متعلق نئے انتظامی اختیارات مسودے کا حصہ ہیں،ایران امریکا مجوزہ معاہدے کا متن ابھی حتمی نہیں، مذاکرات جاری ہیں۔