ایرانی عوام کے تحفظ تک امریکہ سے کوئی معاہدہ منظور نہیں کیا جائے گا ، قالیباف
آیت اللہ خامنہ ای نے 37 سالہ قیادت کے دوران ایران کو مضبوط اور خودمختار بنایا ،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر
فائل فوٹو
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’سفارت کے میدان میں موجود سپاہیوں کو دشمن کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں، ان کے مطابق ایران صرف عملی اور ٹھوس نتائج کو اہمیت دیتا ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جب تک یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر حاصل ہو چکے ہیں۔
ایرانی نیوز یجنسی اسنا کے مطابق آج اتوار کے ورچوئل سیشن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم 12ویں پارلیمنٹ کے تیسرے سال کا آغاز کر رہے ہیں جب کہ قوم کے شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی یاد ہمارے ساتھ ہے، اور ہم ابھی تک اس عظیم قائد کے نقصان پر یقین نہیں کر پا رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے 37 سالہ قیادت کے دوران ایران کو مضبوط اور خودمختار بنایا اور قوم کو سکھایا کہ دھمکیوں کے آگے نہیں جھکنا بلکہ آخر تک دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
قالیباف نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے اور جنگ کے نئے مرحلے میں فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ اور میڈیا کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ ایرانی قوم اس نازک وقت کی اہمیت سمجھتی ہے۔
قالیباف نے کہا کہ اس جدوجہد میں فوجی، سفارتی، عوامی اور خدمت کے تمام میدان اہم ہیں۔ ان کے مطابق فوجی کامیابیاں عوام کی حمایت سے حاصل ہوتی ہیں، سفارت کاری کا مقصد انھیں سیاسی و قانونی کامیابیوں میں بدلنا ہے، جبکہ عوامی خدمت کا ہدف ان فتوحات کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے۔
قالیباف نے کہا کہ اس راستے پر میدان جنگ کے سپاہیوں کو دشمن کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے لیے وہ ٹھوس کامیابیاں اہم ہیں جو ہمیں بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے حاصل کرنا ہوں گی، اور ہم کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک منظور نہیں کریں گے جب تک کہ ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے ایرانی عوام کے حقوق محفوظ کر لیے ہیں۔‘