رہبرِ اعلیٰ کی جانشینی کیلئے ابتدائی فہرست میں مجتبیٰ خامنہ ای کانام شامل نہیں تھا
سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت بسوں کے ذریعے جلدی میں اجلاس کے مقام تک پہنچایا گیاتھا
ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری کے ایک رکن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جب مجلسِ خبرگان کے اراکین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کیا تو مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ابتدائی امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔
صوبہ خوزستان سے مجلسِ خبرگان کے نمائندے محسن حیدری آلکثیر نے گزشتہ ہفتے صوبے کے عرب قبائل کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس روز مجلسِ خبرگان کے اراکین کو سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت بسوں کے ذریعے جلدی میں اجلاس کے مقام تک پہنچایا گیا تھا۔
ان کے مطابق اجلاس میں ابتدا میں آیت اللہ صادق لاریجانی اور آیت اللہ علیرضا اعرافی کے نام آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشینوں کے طور پر پیش کیے گئے۔
محسن حیدری آلکثیر کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اور بعض دیگر نمائندوں نے اس پر اعتراض کیا تو بعد ازاں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی زیرِ غور امیدواروں میں شامل کیا گیا۔
انھوں نے اپنے خطاب میں گزشتہ سال آٹھ مارچ کو ہونے والے مجلسِ خبرگان کے اس اہم اجلاس کی تفصیلات بیان کیں، جسے انھوں نے ایرانی قیادت کے مستقبل کے حوالے سے ایک فیصلہ کن اور تاریخی نشست قرار دیا۔