ایران میں جنوری کے مظاہروں کے الزام میں 2 افراد کو سزائےموت
سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد دو مظاہرین کو پھانسی دی گئی
ایران نے جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں میں مبینہ کردار کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی ہے، یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی میزان نے رپورٹ کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کو ایک مسجد کو آگ لگانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
خبر ایجنسی نے ان افراد کی شناخت مہرداد محمدی نیا اور اشکان ملکی کے ناموں سے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تہران کے علاقے گیشا میں واقع جعفری مسجد پر حملے کے مرکزی ملزمان میں شامل تھے۔
ان کی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا جس کے بعد اسے نافذ کر دیا گیا۔
ایران میں معاشی حالات کے خلاف احتجاجی مظاہرے دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے تھے جو بعد میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے حکومت کرنے والے مذہبی حکمرانوں کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو گئے۔