جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکہ میں کشیدگی برقرار
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ شدت اختیار کر گیا
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے ڈرون مراکز پر حملے کیے، جو تہران کی جانب سے اس کے ایک ڈرون کو مار گرانے کے ردعمل میں کیے گئے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں جزیرہ سِرک پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کویت نے رپورٹ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے، 25 مئی کو امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے کہا کہ اس نے جنوبی ایران میں میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اگلے دن ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور ایک جنگی طیارے پر فائرنگ کی جو ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔
18 اپریل سے 22 اپریل کے دوران امریکہ اور ایران دونوں نے آبنائے ہرمز میں کئی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا، جہاں دونوں فریق متوازی ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اور 4 مئی کو متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے ملک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں فجیرہ میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی۔