ایران کی یورپی یونین پر تنقید،حقِ دفاع سے متعلق مؤقف کو”منافقانہ” قرار دے دیا

ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا وسائل کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یورپی یونین کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن میں ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ان کے بقول غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کو استعمال کر رہا ہے اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا وسائل کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ ان کے مطابق غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے مراکز اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض امریکی کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور انہی اقدامات کے ردعمل میں ایران نے جوابی کارروائی کی۔

ایرانی ترجمان نے کویت میں زیر حراست چار ایرانی شہریوں کے معاملے پر بھی جلد وضاحت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مختلف فریقین کے متضاد بیانات اور مطالبات کے باعث مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر جوہری معاملے پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور بعض امریکی و اسرائیلی اقدامات امن عمل میں رکاوٹ ہیں، جبکہ جنگ بندی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔