فرانس نے اسرائیلی حکام اور دفاعی کمپنیوں پر ‘یوروسیٹری’ نمائش میں شرکت پر پابندی لگا دی

اسرائیلی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو جارحانہ جنگی نظام کی نمائش کرنے سے بھی روک دیا۔

June 1, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پیرس: فرانسیسی حکومت نے رواں ماہ پیرس میں ہونے والی عالمی دفاعی نمائش ‘یوروسیٹری’ (Eurosatory) میں اسرائیلی حکام اور دفاعی کمپنیوں کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق فرانسیسی حکام نے نہ صرف سرکاری نمائندوں کے آنے پر پابندی لگائی ہے بلکہ اسرائیلی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو جارحانہ جنگی نظام کی نمائش کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف “ایئر ڈیفنس پروڈکٹس” (فضائی دفاعی نظام) پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ سخت فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی فرانسیسی حکام نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ داخلہ اتامار بن غفیر کے ملک میں داخلے پر پابندی لگائی تھی۔ اتامار بن غفیر کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں وہ بحری بیڑے کے اغوا کیے گئے سماجی کارکنوں کی تذلیل پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے، جبکہ اس دوران کارکنان آنکھوں پر پٹیاں باندھے اور ہاتھ بندھے زمین پر بیٹھے دکھائی دیے تھے۔