ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو گیا ، ٹرمپ کا دعویٰ
مذاکرات میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای بھی شامل ہیں،
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو گیا ہے اور ان مذاکرات میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
بدھ کو نیو یارک پوسٹ کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہم ایران کو نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دے سکتے اور وہ اس پر رضامند ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔
انھوں نے اس پر اتفاق کیا ہے وہ (بعد میں) اپنا دماغ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن یہ (معاملہ) ان چیزوں میں سے تھا جس پر انھیں اتفاق کرنا پڑا۔‘
اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مجتبیٰ خامنہ ای ان افراد میں شامل ہیں جن سے امریکہ بات کر رہا ہے، تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’جن لوگوں سے ہم بات کر رہے ہیں، ان کے بارے میں ہمیں پتا ہے کہ وہی لوگ ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ جی، وہ (رہبرِ اعلیٰ) اس میں شامل ہیں۔
ایرانی مذاکرات کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ ان (رہبرِ اعلیٰ) کی بہت عزت کرتے ہیں۔
جب امریکی صدر سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات میں نہیں معلوم کیونکہ ’مجھے ان سے ملنے کا شرف حاصل نہیں ہوا ہے، لیکن میں نے یہ نہیں سنا کہ وہ ٹھیک ہیں۔
اگر آپ کہانیوں پر یقین کریں تو ان کے (جسم کے) بہت سے حصے موجود نہیں ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کا یہی کہتی ہے کہ مذاکرات کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای ہی دے رہے ہیں اور ’ایک طویل عرصے سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ پہلے ان کے والد تھے اور اب وہ خود ہیں۔
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی مجتبیٰ خامنہ ای یا دیگر ایرانی رہنماؤں سے ملنا چاہیں گے، تو ان امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے اس بارے میں کبھی سوچا نہیں ہے۔ یہ بہت اچھا سوال ہے، میں اس بارے میں سوچوں گا، میں ان سے ملنا چاہوں گا، میں ہر کسی سے ملنا چاہوں گا۔
ٹرمپ نے کہاکہ ہم شاید کبھی کسی موقع پر ملاقات کریں گے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ معاملات کہاں جاتے ہیں۔