ٹرمپ کا ایران سے متعلق مؤقف سخت، پابندیاں اور منجمد اثاثے معاہدے سے مشروط

ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی صرف حتمی اور مکمل معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگی

June 7, 2026 · اہم خبریں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی باقاعدہ امن معاہدے سے قبل نہ پابندیاں ختم کی جائیں گی اور نہ ہی منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی صرف حتمی اور مکمل معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ان کے مطابق فی الحال کسی عارضی یا قلیل مدتی معاہدے پر غور نہیں کیا جا رہا۔

دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور مبینہ جنگ کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں کی واپسی ضروری ہے، اور تہران اس مطالبے پر قائم ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال پر غور کر رہی ہے، جنہیں بعض خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں ہونے والے حالیہ حملوں کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے، تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ کا یہ سخت مؤقف ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور خطے میں جاری کشیدگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔