نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کرنے والے آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم خان معطل

کریم خان پر الزام ہے ، انھوں نے ایک خاتون کو جنسی طور پر چھوا اورہراسانی کا نشانہ بنایا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہیگ: بین الاقوامی فوجداری عدالت (انٹرنیشنل کریمینل کورٹ – آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو جنسی ہراسانی الزامات کی تحقیقات کے دوران فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ آئی سی سی کی مینجمنٹ کی اوورسائٹ باڈی کے ایک گروپ نے لیا ہے جبکہ اس معاملے کو عدالت کے 125 رکن ممالک کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔

آئی سی سی رکن ممالک ایک خصوصی اجلاس کے دوران کریم خان کے مستقبل کے بارے میں ووٹنگ کریں گے۔ یہ اجلاس ’جلد از جلد‘ بلایا جائے گا۔ اووسائٹ بیورو کا کہنا ہے معطلی کے فیصلہ کا مقدمے کے حتمی نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

کسی بھی فیصلے کو برقرار رکھنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کے بعد ایک علیحدہ ووٹ کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ آیا کریم خان کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

ذرائع ابلاغ میں ایسی دستاویزات گردش کر رہی ہیں جن میں کریم خان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک خاتون کو جنسی طور پر چھوا اور انھیں ہراسانی کا نشانہ بنایا۔

کریم خان نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اُن کے وکلا نے حالیہ فیصلے کو ’غیر قانونی، طریقۂ کار کے لحاظ سے غیر منصفانہ اور بنا کسی شواہد کے لیا گیا‘ اقدام قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ مئی میں کریم خان نے عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور حماس رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی درخواست دی تھی۔