آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں آئے گا۔ایرانی یونین چیف
بحری ٹرانزٹ نظام متاثر، نئی صورتحال اور نئے عالمی بحری نظم کی ضرورت قرار
ایران کی مرچنٹ میرین یونین کے سربراہ سمن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا ٹرانزٹ نظام کبھی بھی جنگ سے پہلے کی اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آ سکے گا، چاہے موجودہ بحران کا اختتام بھی ہو جائے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صدیوں سے یہ آبنائے تجارتی بحری جہازوں کے لیے ایک محفوظ راستہ رہی ہے، تاہم حالیہ جنگ نے اس کے سابقہ نظام اور ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد ایک نئے عالمی بحری نظم اور ساحلی ریاستوں کے زیادہ مؤثر کردار کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی شپنگ انڈسٹری بھی سمجھتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں مکمل نارمل صورتحال کی بحالی ایک طویل اور غیر یقینی عمل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پائیدار امن قائم ہو، خطرات میں واضح کمی آئے اور کئی بار بغیر کسی واقعے کے بحری ٹرانزٹ ممکن ہو۔
ٹائم لائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے مطابق اس عمل میں “ہفتوں بلکہ مہینوں” کا وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ جہازوں کا بڑا بیک لاگ موجود ہے اور عملے کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج کے دونوں اطراف بندرگاہوں اور تجارت و تیل کے اداروں کے کئی بڑے اثاثے جنگ کے باعث متاثر ہوئے ہیں، جن کی بحالی کے لیے بھاری فنڈنگ اور طویل وقت درکار ہوگا۔