ایران میں رجیم چینج ہوچکی، نئی قیادت اسمارٹ ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا نہ حاصل کرے گا، پریس کانفرنس

فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

جنیوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے اختتام پر  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور بمباری ہفتوں یا مہینوں چلتی رہتی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اب ڈیل ہوگئی ہے اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ سب تباہ ہوچکی ہے، ایران کی قیادت ختم ہوچکی، ایران میں رجیم چینج ہوچکی نئی قیادت آگئی ہے جو اسمارٹ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جی سیون ممالک سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر بات کی ہے، جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا ہے،کسی ایک ملک نے بمباری جاری رکھنے کا نہیں کہا۔

امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا۔

ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے، اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا، نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں جنگ جاری رکھ سکتا تھا لیکن میں پوری دنیا میں کساد بازاری نہیں چاہتا، جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں اسٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا نہ حاصل کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے، جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی، ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے۔ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ معاہدے سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا، پڑوسی ایسا کرسکتے ہیں، ایران کو جنگ سے 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک یا کچھ اور لوگ اس مد میں مدد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا بہت سارا پیسہ منجمد کیا ہے اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، ایران اچھا برتاؤ کرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید غیر معمولی جنگجو ہیں، وہ بم گرا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ بم کون گرا رہا ہے، معلوم ہوا یہ یو اے ای تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک سے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور دہشت گرد پراکسیز پر بھی بات چیت کررہے ہیں، ایران جنگ میں غیرجانبدار رہنے پر چینی اور روسی صدور کے شکرگزار ہیں۔