ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی، اسماعیل بقائی کی دوٹوک وضاحت

جنیوا میں موجود مذاکراتی وفود کی سرگرمیاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں گی۔

June 18, 2026 · اہم خبریں

ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے معاہدے کے مختلف پہلوؤں اور آئندہ سفارتی اقدامات سے متعلق اہم وضاحتیں جاری کی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے صدور معاہدے کے متن کی توثیق کر چکے ہیں، جس کے بعد سفارتی سرگرمیوں کے شیڈول میں بعض تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ میں جمعہ کو متوقع ملاقات بنیادی طور پر دستخطی تقریب کے لیے طے نہیں کی گئی تھی، تاہم نئی صورتحال کے تناظر میں اس کے انعقاد یا مؤخر کیے جانے سے متعلق فیصلہ جلد سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق جنیوا میں موجود مذاکراتی وفود کی سرگرمیاں طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں گی۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامی اور بحری امور ایران اور عمان کے باہمی تعاون سے دیکھے جائیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایسے اقدامات کو معاہدے کی روح کے منافی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کے حوالے سے مخصوص قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں گے جبکہ ملک اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور نہ ہی جوہری مواد بیرون ملک منتقل کرنے کی کوئی تجویز قابل قبول ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران نئی پابندیوں یا خطے میں فوجی موجودگی میں اضافے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اسی عرصے میں تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور منجمد مالی اثاثوں تک رسائی کی راہ بھی ہموار کی جانی چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ سفارتی تعلقات میں ایک نئی پیش رفت ضرور ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار تمام فریقوں کی جانب سے اعتماد سازی، باہمی احترام اور طے شدہ نکات پر مکمل عملدرآمد پر ہوگا۔