امریکا ایران معاہدہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت فی بیرل 78.66 ڈالر تک پہنچ گئی
خام تیل بھی 98 سینٹ یا 1.28 فیصد کمی کے ساتھ 75.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے اثرات خطے کی معیشتوں پر بھی مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 89 سینٹ یعنی 1.12 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد فی بیرل قیمت 78.66 ڈالر پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 98 سینٹ یا 1.28 فیصد کمی کے ساتھ 75.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار یہ توقع کر رہے ہیں کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ مکمل طور پر کھلنے کی اطلاعات نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ مارکیٹ پہلے ہی اس امکان کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے کہ ایرانی تیل جلد بڑی مقدار میں عالمی منڈی میں واپس آ سکتا ہے، جس سے سپلائی میں اضافہ اور قیمتوں میں دباؤ پیدا ہو گا۔
پاکستانی معیشت پر بھی اس کمی کے ممکنہ اثرات زیرِ بحث ہیں۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے باعث پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، بعض اندازوں کے مطابق قیمتیں 420 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی تھیں۔
اب قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی قیمتیں 79 سے 80 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب برقرار رہیں اور روپے کی قدر مستحکم رہے تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود ہے۔
دوسری جانب بعض معاشی ماہرین کے مطابق حکومت ٹیکس اور لیوی میں ردوبدل کے ذریعے عوام کو زیادہ ریلیف فراہم کر سکتی ہے، جو بعض صورتوں میں 50 روپے فی لیٹر تک بھی ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا اپنی سفارشات وزارت خزانہ کو ارسال کرے گا، جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے جمعہ کی شب نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے۔