امریکہ نے ایران کو قبل از وقت ریلیف دیا۔ ڈیموکریٹس کا اعتراض
جوہری پروگرام اور پراکسی نیٹ ورکس سے متعلق پیش رفت نہ ہونے کا مؤقف
امریکہ کی ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی میں ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات اور بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر پیش رفت سے قبل ہی پابندیوں میں نرمی دے دی ہے، جو کہ اس مؤقف کے برعکس ہے جو معاہدے سے متعلق پہلے اپنایا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ڈیموکریٹس نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کا طرزِ عمل اس کے اپنے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ کو بڑھانے کے بجائے اس کا خاتمہ بہتر ہے، تاہم موجودہ اقدامات سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ حکام بار بار کہتے رہے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی نیٹ ورکس سے متعلق پیش رفت سے مشروط ہوگی، لیکن اس کے باوجود ایران کو وسیع پیمانے پر ریلیف دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز ایرانی تیل اور ایندھن کی برآمدات پر پابندیوں میں 21 اگست تک نرمی کر دی، جس کے بعد ایران کو کئی دہائیوں بعد پہلی بار امریکی ڈالر میں تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی ہے۔