آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے راستے کا اعلان ناقابل قبول ہے، پاسداران انقلاب

نئے راستے کا اعلان ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی معلومات یا رابطہ کاری کے بغیر کیا گیا،

June 25, 2026 · |, اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفون پر اہم رابطہ ہوا ہے۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے راستے کا اعلان ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی معلومات یا رابطہ کاری کے بغیر کیا گیا، جسے ایران نے ’ناقابل قبول‘ اور ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی نے گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کی تازہ صورتحال اور 60 روزہ عبوری انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ عمان نے حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے عمان کے دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں انھوں نے عباس عراقچی کے ہمراہ سلطانِ عمان سے آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت دیگر امور پر بات چیت کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب کا حالیہ سخت ردعمل دراصل عمان کی جانب سے اس نئے راستے کے یکطرفہ اعلان کے خلاف ہے۔

آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی توانائی کی ایک بڑی مقدار بحری راستے سے گزرتی ہے۔

ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نیا نظام تشکیل دے رہا ہے، جسے عمان کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم تہران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کی انتظامیہ گذشتہ جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

دوسری جانب، خطے کے ممالک کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بین الاقوامی قوانین کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنی چاہیے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ko جارحیت کے ذریعے حقائق مسلط کرنا استحکام نہیں لاتا بلکہ مستقبل کے تنازعات کو جنم دیتا ہے، اور یہ بات آبنائے ہرمز کے معاملے میں بالکل درست ہے۔

ادھر خلیج تعاون کونسل نے بحرین میں ہونے والے اجلاس میں، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے، آبنائے ہرمز کے بحران پر تفصیلی غور کیا۔

مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ یہ ایک بنیادی عالمی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا میں مکمل افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔