پاکستان ریلوے کو ایک سال میں 61 ارب روپے کا نقصان
گزشتہ پانچ برسوں میں آپریٹنگ اخراجات میں 60 فیصد جبکہ آپریشنل نقصانات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گی
اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کو مالی سال 2024-25 کے دوران 61 ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 9 ارب روپے یا 19.11 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے بدستور شدید مالی بحران کا شکار ہے، جہاں آمدنی اور آپریٹنگ اخراجات کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ادارے کو 60 ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا جبکہ آپریٹنگ نقصان کی شرح 65 فیصد تک پہنچ گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں آپریٹنگ اخراجات میں 60 فیصد جبکہ آپریشنل نقصانات میں 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مالی نظم و نسق میں مسلسل کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان ریلوے کی مجموعی آمدنی 92.7 ارب روپے رہی جبکہ آپریٹنگ اخراجات تقریباً 153 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
آڈیٹر جنرل نے پاکستان ریلوے اور اس کی ذیلی کمپنیوں میں مجموعی طور پر 34.42 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی، جن میں بجٹ، مالیاتی نظم و نسق، منصوبہ بندی، غیر بجٹ اخراجات اور اثاثوں کے انتظام سے متعلق سنگین خامیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص اربوں روپے بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کیے گئے، جبکہ ادارہ مسلسل دوسرے سال بھی برقرار رکھی گئی آمدنی پیدا کرنے میں ناکام رہا، جس سے اس کی طویل المدتی مالی پائیداری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔