گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026، افغانستان انتہائی ہائی رسک ممالک میں شامل
قید خانوں میں خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر شہریوں کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔
گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026 کی رپورٹ میں افغانستان کو تشدد، غیر انسانی سلوک اور ریاستی جبر کے حوالے سے انتہائی ہائی رسک ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام قید خانوں میں خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر شہریوں کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 کے بعد طالبان کی تحویل میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی جیلوں اور حراستی مراکز میں ہزاروں افراد قید ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن پر تاحال کسی جرم کا باقاعدہ فیصلہ نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق خواتین قیدیوں کو مختلف حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے جہاں آزاد مانیٹرنگ اداروں اور اقوام متحدہ کے مشنز نے جسمانی تشدد، کوڑے مارنے، برقی جھٹکوں اور دیگر مبینہ غیر انسانی سلوک کے الزامات کا ذکر کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین پر تعلیم، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے بعد گرفتاریوں اور حراست کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر اس رپورٹ کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔