حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا آسان نہیں۔ اسرائیلی شہریوں کا خدشہ
لبنان معاہدے پر اسرائیلی شہریوں کے شکوک، جنوبی لبنان میں فوج برقرار رکھنے کا مطالبہ
لبنان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر شمالی اسرائیل کے متعدد شہریوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا یہ معاہدہ زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکے گا، اور اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنی چاہیے۔
لبنان کی سرحد کے قریب واقع شمالی اسرائیلی قصبے میٹولا میں موجود امیر راز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے اس بات پر شک ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا، “اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ان علاقوں پر، جن پر اس کا قبضہ ہے، اس وقت تک برقرار رہنا چاہیے جب تک ضرورت ہو، یا جب تک ہمیں وہاں رہنے کی اجازت حاصل رہے۔
میٹولا آنے والی ایک اور شہری رونیت بیلسن نے کہا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا لبنانی فوج کو مؤثر انداز میں مضبوط بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “اگر صرف لبنانی فوج ان علاقوں میں تعینات ہوتی ہے اور اسرائیلی فوج واپس چلی جاتی ہے تو ذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ یہ انتظام دیرپا ثابت ہوگا، کیونکہ لبنانی فوج حقیقت میں حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔