تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا

وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولاکوٹ روانہ ہوا تھا

June 29, 2026 · قومی

اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا، جس کے بعد وفد نے چکیاں کے مقام پر دھرنا دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولاکوٹ روانہ ہوا تھا، جہاں انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں شرکت اور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔

وفد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔

راستے میں کہوٹہ کے مقام پر پولیس نے وفد کو روک لیا اور آگے جانے کی اجازت نہ دی۔ پولیس کے مطابق انہیں اعلیٰ حکام کی ہدایت موصول ہوئی تھی جس پر ناکہ بندی کی گئی۔

اس موقع پر اپوزیشن رہنماؤں اور پولیس کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے راولاکوٹ جانا چاہتے ہیں اور مرکزی قیادت کو روکنا منفی پیغام دیتا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفد کا مقصد صرف بات چیت اور حالات کو سمجھنا تھا، جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسے افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو راستے میں روکنا منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔

راستہ نہ ملنے پر وفد نے موقع پر ہی چکیاں کے علاقے میں دھرنا دے دیا، جس میں مختلف اپوزیشن رہنما شریک ہیں۔