پوری دنیا صرف سولر بجلی سے بیٹریوں والے سولر سسٹم پر منتقل ہونے لگی
گزشتہ سال دنیا بھر میں شمسی توانائی کی صلاحیت میں 11 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 647 گیگاواٹ تک پہنچ گئی
عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں روایتی سولر منصوبوں سے ہٹ کر اب “سولر پلس اسٹوریج” ماڈل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں شمسی توانائی کی صلاحیت میں 11 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 647 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جس سے مجموعی عالمی شمسی صلاحیت 2.9 ٹیراواٹ ہو گئی۔ یہ شمسی توانائی کو دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا بجلی کا ذریعہ بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اپریل 2026 میں پہلی بار شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی ماہانہ بجلی نے گیس سے چلنے والی پیداوار کو پیچھے چھوڑ دیا، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
تاہم اس تیزی کے باوجود ایک بڑا چیلنج برقرار ہے، کیونکہ شمسی توانائی کا زیادہ تر حصہ صرف دن کے وقت دستیاب ہوتا ہے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال عالمی سطح پر 90 فیصد سے زائد سولر صلاحیت اسٹوریج کے بغیر کام کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اب سرمایہ کار اور ڈویلپرز “ہائبرڈ سولر پلس اسٹوریج” منصوبوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو نہ صرف توانائی کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ منافع اور گرڈ کی کارکردگی کو بھی بہتر کرتے ہیں۔
بروک فیلڈ اثاثہ جات کے ماہرین کے مطابق یہ ماڈل کارپوریٹ پاور پرچیز معاہدوں میں بھی تیزی سے روایتی اسٹینڈ الون سولر کو تبدیل کر رہا ہے، کیونکہ یہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور منفی مارکیٹ ریٹس کے خطرات کو کم کرتا ہے۔
توانائی ماہر آرناؤڈ جووین کے مطابق بیٹری اسٹوریج کے ساتھ سولر منصوبے اب سرمایہ کاروں اور خریداروں دونوں کے لیے زیادہ قابل اعتماد اور مستحکم حل بن چکے ہیں۔
مزید برآں، میک کینزی کی رپورٹ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج مارکیٹ 2030 تک سالانہ 50 فیصد کی شرح سے بڑھ سکتی ہے اور تقریباً 680 گیگا واٹ آور تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں توانائی کی دنیا مکمل طور پر “سولر پلس اسٹوریج” ماڈل کی طرف منتقل ہو سکتی ہے، جس میں بڑی کمپنیاں اور سرمایہ کار تیزی سے حصہ لے رہے ہیں۔