بھارت کے دورے پر سؤر کھانے والی خاتون کے دماغ میں کیڑے پڑ گئے

میڈیا انڈسٹری سے وابستہ لاؤری کو اس موذی مرض کا سراغ ایک طویل عرصے بعد بیت الخلا میں ایک میٹر لمبا کیڑا دیکھنے پر ملا۔

July 2, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن: ویلز سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ برطانوی خاتون لاؤری ڈینمین میں ایک انتہائی نایاب اور ہولناک دماغی انفیکشن ‘نیورو سسٹیسرکوسس’ (Neurocysticercosis) کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث ان کے دماغ میں 38 کیڑے (ٹیپ وارم) پیدا ہو گئے۔ میڈیا انڈسٹری سے وابستہ لاؤری کو اس موذی مرض کا سراغ ایک طویل عرصے بعد بیت الخلا میں ایک میٹر لمبا کیڑا دیکھنے پر ملا۔

طبی ماہرین اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر برینڈن ہیلی کے مطابق، لاؤری کو یہ انفیکشن سنہ 2007 میں انڈیا کے تین ماہ کے سفر کے دوران ہوا تھا۔ اگرچہ انہوں نے فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے دورے کے دوران گوشت کھانے سے مکمل پرہیز کیا تھا، تاہم ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی غذا یا پانی کا استعمال کیا جو سؤر کے ٹیپ وارم کے انڈوں سے آلودہ تھا۔

اس انفیکشن کی پہلی واضح علامت سفر کے تین سال بعد یعنی سنہ 2010 میں سامنے آئی، جب لاؤری نے ایک ریستوران کے بیت الخلا میں ایک میٹر لمبا ٹیپ جیسا لکیروں والا کیڑا دیکھا اور اسے فلش کر دیا۔

دماغ میں پہنچنے والے ان 38 کیڑوں کے لاروا کی وجہ سے لاؤری شدید ترین سر درد، مرگی جیسے دوروں اور سنگین نفسیاتی مسائل کا شکار رہیں۔ وہ برطانیہ کے ان چند گنے چنے مریضوں میں شامل ہیں جو اس نایاب اور خطرناک دماغی انفیکشن کا شکار ہوئے ہیں۔

برسوں کی طویل جدوجہد اور علاج کے بعد اب لاؤری کی صحت بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنے اس ہولناک تجربے کو ایک مثبت مقصد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اب اس بیماری کے حوالے سے عوامی سطح پر شعور اور آگاہی پھیلانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔