ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا تہران میں تاریخی جنازہ جلوس کا آغاز ہوگیا

جلوس امام حسین چوک سے روانہ ہو کر انقلاب اسٹریٹ، انقلاب چوک، آزادی چوک اور شاہد لشگری ہائی وے سے گزرتا ہوا مہران آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اختتام پذیر ہوگا۔

July 6, 2026 · اہم خبریں

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے بعد تہران میں ان کے جنازے کا مرکزی جلوس شروع ہو گیا، جس کے باعث شہر بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق جلوس امام حسین چوک سے روانہ ہو کر انقلاب اسٹریٹ، انقلاب چوک، آزادی چوک اور شاہد لشگری ہائی وے سے گزرتا ہوا مہران آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اختتام پذیر ہوگا۔ شدید گرمی کے پیش نظر شرکاء کے لیے پانی اور دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تہران میں آخری رسومات کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا، جہاں سے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جانے کا بھی پروگرام ہے تاکہ زائرین آخری دیدار کر سکیں۔ بعد ازاں 9 جولائی کو ان کی تدفین آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی

تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں ہونے والی نمازِ جنازہ معروف عالم دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ اس موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ فوجی حکام اور دیگر سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ بھی جنازے میں موجود تھے، جبکہ ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

جنازے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ تہران پہنچے، جبکہ حکومت نے دور دراز سے آنے والے سوگواروں کی رہائش کے لیے مختلف تعلیمی ادارے بھی عارضی طور پر کھول دیے ہیں۔ سرکاری سطح پر سوگ کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور تدفین کی مرکزی تقریب میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔