سابق ایرانی صدر احمدی نژاد منظرعام پر آگئے

جنگ کے آغاز میں ہلاکت کی خبروں کے بعد احمدی نژاد پہلی بار عوام کے سامنے

July 7, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران کے سابق صدر محمد احمدی نژاد جن کے بارے میں جنگ کے آغاز میں ہلاک ہونے کی خبریں گردش کر رہی تھیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں اچانک منظرِ عام پر آ گئے۔

سابق ایرانی صدر پیر کے روز تہران میں لاکھوں سوگواروں کے ہمراہ خامنہ ای کے تابوت کے جلوس میں شریک ہوئے۔ وہ سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ عوامی اجتماع میں دکھائی دیے۔

احمدی نژاد، جو 2005ء سے 2013ء تک ایران کے صدر رہے، جنگ کے پہلے روز بعض ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ اداروں کی جانب سے ہلاک قرار دیے گئے تھے۔ ان رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں خامنہ ای اور ایرانی قیادت کے متعدد ارکان مارے گئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کے گھر کے قریب میزائل گرنے سے وہ بھی جان کی بازی ہار گئے۔

اس کے بعد کئی ماہ تک احمدی نژاد نہ عوام کے سامنے آئے اور نہ ہی ان کے بارے میں حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید جاری کی گئی، جس کے باعث ان کی حالت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رہی۔

پیر کو وہ پہلی مرتبہ عوامی سطح پر نظر آئے۔ انہوں نے جیکٹ پہن رکھی تھی جبکہ ماسک گردن تک نیچے کیا ہوا تھا اور وہ سوگواروں کے درمیان موجود تھے۔

ان کی یہ اچانک واپسی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایک روز قبل ایران کے دیگر سابق صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی جنازے کی تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ انہیں تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔

جنازے کی تقریب کو ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس موقع پر موجود تھے اور ہجوم میں آگے بڑھنے کے لیے موٹرسائیکل پر سفر کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

جلوس کے راستے میں بعض شرکاء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا علامتی مجسمہ لٹکایا جبکہ ان کے خلاف نعرے درج بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

سرکاری ٹیلی وژن کی ہیلی کاپٹر سے بنائی گئی ویڈیوز میں تہران کے مرکزی علاقوں میں میلوں تک پھیلے عوامی ہجوم کو دکھایا گیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ جنازے میں دو کروڑ تک افراد کی شرکت متوقع تھی۔