فٹبال ورلڈ کپ میں بھی ٹرمپ کی مداخلت امریکی کھلاڑی کا ریڈ کارڈ واپس
بالوگن بیلجیئم کے خلاف کھیلیں گے، فیفا کے یوٹرن پر شدید احتجاج
فٹبال کی دنیا اس وقت ایک بڑے طوفان کی زد میں ہے جب فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ‘مداخلت’ کے بعد امریکی سٹرائیکر فلورین بالوگن کا ریڈ کارڈ معطل کر دیا ہے۔ اس حیران کن فیصلے کے بعد بالوگن اب بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے زندگی اور موت کے میچ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ 2 جولائی کو بوسنیا کے خلاف میچ میں فلورین بالوگن نے پہلے ہاف میں شاندار گول کر کے امریکہ کو ہیرو بنا دیا۔ لیکن دوسرے ہاف میں ایک مبینہ فاؤل پر ریفری نے انہیں ‘ریڈ کارڈ’ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ قانون کے مطابق ان پر اگلے میچ کی پابندی لگ چکی تھی اور امریکی شائقین اداس تھے۔
مگر کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے میں انٹری ماری۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے سربراہ جانی انفینٹینو کو فون گھما دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، “وہ کوئی فاؤل نہیں تھا، بس دو کھلاڑی آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ ہمارے لڑکے کو کھیلنے دیا جائے!”
صدر ٹرمپ کے فون کے بعد فیفا نے جادوئی پھرتی دکھائی۔ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے اپنے قوانین کی ایک خاص شق (آرٹیکل 27) کا استعمال کرتے ہوئے بالوگن کی پابندی کو ایک سال کے لیے ‘مؤخر’ کر دیا۔ یعنی ریڈ کارڈ تو اپنی جگہ رہا، لیکن بالوگن کو بیلجیئم کے خلاف کھیلنے کا گرین سگنل مل گیا۔
اس فیصلے نے یورپی فٹبال میں آگ لگا دی ہے۔ بیلجیئم کی فٹبال ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فٹبال کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جہاں سیاسی دباؤ پر قوانین بدل دیے گئے۔ یورپی فٹبال تنظیم (UEFA) نے بھی اسے ‘سرخ لکیر’ عبور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
دوسری طرف امریکی ٹیم اور شائقین اس فیصلے پر جشن منا رہے ہیں، کیونکہ بیلجیئم جیسی مضبوط ٹیم کو ہرانے کے لیے انہیں اپنے سٹار سٹرائیکر کی شدید ضرورت تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بالوگن اس ‘سیاسی لائف لائن’ کا فائدہ اٹھا کر امریکہ کو کوارٹر فائنل میں پہنچا پاتے ہیں یا نہیں۔