قم میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز.نماز جنازہ ادا
آیت اللہ جوادی آملی نے قم کی مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔
تقریباً چار ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت تہران سے قم منتقل کیے گئے جہاں اب ان کی آخری رسومات با ضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ جوادی آملی نے قم کی مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔
قم میں آخری رسومات کے بعد میتیں عراق منتقل کی جائیں گی۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت مقدس شہر قم منتقل کیے گئے، جہاں شہر کے مضافات میں واقع مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ اور دیگر مذہبی رسومات جاری ہیں۔
تسنیم کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں مسجد جمکران میں سوگواروں کی بڑی تعداد کو نمازِ جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو مزید مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے عراق منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد ان کا جسد ایران کے شہر مشہد واپس لایا جائے گا، جہاں جمعرات کو سپردِ خاک کیا جائے گا۔