وزیر خزانہ کا بڑا اعلان،مزید 28 ریاستی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

گزشتہ مالی سال میں بڑی صنعتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی

July 7, 2026 · اہم خبریں

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ساتھ نجکاری کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مزید 28 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں بڑی صنعتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ ترسیلات زر میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ بھی مستحکم رہا۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلات زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات نے بھی ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں (آئی پی اوز) متعارف کرائی گئیں، جبکہ نوجوان سرمایہ کاروں کی اسٹاک مارکیٹ میں دلچسپی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے کاروباروں کو سہولت دینے کے لیے 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی شعبے کو ریلیف دیا گیا ہے اور زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس وصولی کا نظام بہتر بنانے اور انسانی مداخلت کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سادہ، شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام متعارف کرانا چاہتی ہے تاکہ ہر شہری اپنی استعداد کے مطابق ٹیکس ادا کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی سہولیات کی فراہمی بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمرشل بینکوں کو سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حکومت کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔