امریکہ کا ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں کا دعویٰ
حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جنہیں بحری راستوں پر حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائی میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جنہیں بحری راستوں پر حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل نظام اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں موجود متعدد تیز رفتار کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
القيادة المركزية الأمريكية تعلن استهداف أكثر من 80 هدف إيراني، في ضرباتها الانتقامية الأخيرة على إيران. pic.twitter.com/j1ENZE9clu
— 🇺🇸محمد|MFU (@mfu46) July 8, 2026
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چند تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی، جبکہ واشنگٹن نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔