امریکی حملوں پر ایران کا اقوام متحدہ سے رجوع، احتجاجی خطوط ارسال
حالیہ حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں۔خطوط میں مؤقف
ایران نے حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی قیادت کو باضابطہ احتجاجی خطوط ارسال کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو الگ الگ خطوط بھیجے، جن میں امریکی کارروائیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
خطوط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ ایران نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی کارروائیاں اقوام متحدہ کے منشور کی ان شقوں سے مطابقت نہیں رکھتیں جو ریاستوں کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال سے متعلق ہیں۔ خطوط میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ حملے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز کی روح کے بھی خلاف ہیں۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مناسب اقدامات کرے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔