محمود احمدی نژاد نے اسرائیل سے خفیہ روابط کے دعوے مسترد کر دیے
میں نہ تو نظر بند ہوں اور نہ ہی ان سے متعلق شائع ہونے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی ہیں۔
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے انہیں مستقبل میں ایران کی قیادت کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے خفیہ رابطے قائم کیے تھے۔
سابق صدر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ان سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس بے بنیاد، من گھڑت اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔ بیان میں ان دعوؤں کو “ہالی ووڈ طرز کی کہانی” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد سیاسی حالات سے فائدہ اٹھانا اور نفسیاتی جنگ کو فروغ دینا ہے۔
یہ ردعمل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں نامعلوم امریکی اور ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مناسب وقت آنے پر محمود احمدی نژاد کو ایران کی قیادت کے لیے سامنے لایا جا سکتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس منصوبے کے تحت ہنگری میں ایک موسمیاتی کانفرنس کو خفیہ ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران احمدی نژاد کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کی بھی بات کی گئی۔
دوسری جانب محمود احمدی نژاد کے دفتر نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ تو نظر بند ہیں اور نہ ہی ان سے متعلق شائع ہونے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی ہیں۔
واضح رہے کہ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں کیے گئے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔