ایران نے جے ڈی وینس کو نجی پیغام میں اہم خدشات سے آگاہ کیا،امریکی ویب سائٹ
ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بھی ثالثوں کے ذریعے امریکی صدر کے لیے ایک تحریری دستاویز فراہم کی تھی
ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کو نجی طور پر پیغام دے کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے کردار پر تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ شخصیات کی موجودگی کسی پائیدار معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ تھا کہ دونوں افراد مذاکرات سے زیادہ مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ فائدہ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق ایران نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مذاکرات سے متعلق حساس معلومات مسلسل اسرائیلی وزیراعظم اور دیگر اسرائیلی حکام تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسرائیلی قیادت سے باقاعدگی سے رابطے میں تھے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بھی ثالثوں کے ذریعے امریکی صدر کے لیے ایک تحریری دستاویز فراہم کی تھی، جس میں ان خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کو “ایرانی پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پیش کیے گئے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں۔
ادھر نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی موجودگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔