امریکا کے ایران پر حملے گیارہویں روز بھی جاری،مختلف شہروں میں دھماکے

تبریز، کرمانشاہ، بوشہر، خوزستان اور سیرک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

July 22, 2026 · بام دنیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی حملے مسلسل گیارہویں روز بھی جاری رہے، جبکہ ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال رہا، جبکہ تبریز، کرمانشاہ، بوشہر، خوزستان اور سیرک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائیوں میں ایرانی فوجی آپریشنز سے وابستہ مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرونز کے ذخائر اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔

سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت کے علی السالم بیس کے قریب واقع ریڈار کمپلیکس اور بوبیان کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر خاتم الانبیا بریگیڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ بریگیڈ کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

اس دوران خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور عالمی برادری فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اپیل کر رہی ہے۔