ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے متعدد رابطے کیے گئے ہیں،مارکو روبیو
اگر ایران واقعی کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو واشنگٹن اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
منیلا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاملے پر کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم تہران کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔
آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے متعدد رابطے کیے گئے ہیں، تاہم امریکا تہران کے اقدامات کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران واقعی کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو واشنگٹن اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایران کی بعض سرگرمیوں سے خطے کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے، خصوصاً عالمی بحری تجارت اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا قابل قبول نہیں، اگر ایسی سرگرمیاں جاری رہیں تو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ماضی میں معاہدوں سے پیچھے ہٹتا رہا ہے، اس لیے عالمی برادری تہران کے اقدامات کو عملی طور پر جانچ رہی ہے۔
انہوں نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں سے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
مارکو روبیو کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔