ایران کا اردن اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

اردن میں امریکی دفاعی نظام سے متعلق متعدد اہداف، جن میں مبینہ طور پر ریڈار، میزائل دفاعی نظام اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر شامل ہیں، حملوں کی زد میں آئے۔پاسدارانِ انقلاب

July 23, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں اردن اور کویت میں امریکی فوج سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی دفاعی نظام سے متعلق متعدد اہداف، جن میں مبینہ طور پر ریڈار، میزائل دفاعی نظام اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر شامل ہیں، حملوں کی زد میں آئے۔

دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ ایک میزائل غیر آباد علاقے میں گرا۔ اردنی حکام کے مطابق ان واقعات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ادھر ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کویت میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال مبینہ فوجی تنصیبات، جن میں گولہ بارود کے ذخائر، لاجسٹک مراکز، ایندھن کے ٹینک اور فضائی اڈے شامل ہیں، ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے گئے۔

کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے دشمن ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث سنائی دیں۔

دریں اثنا بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ سعودی میڈیا نے بحیرہ احمر میں ایک مقامی کمپنی کے تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں میں سے ایک میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ دیگر دو جہازوں نے اپنا سفر روک کر واپس رخ کر لیا۔ اس حوالے سے بھی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ مختلف ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔