گرفتاری وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو امریکا روانہ، ٹرمپ سے اہم ملاقات متوقع
دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کے باوجود امریکا کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ دورہ امریکی صدر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جس کے دوران دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے۔ عدالت نے نومبر 2024 میں غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیلی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور آئی سی سی کی کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتی ہے، جبکہ عدالت کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات میں غزہ کی موجودہ صورتحال، ایران سے متعلق پالیسی، خطے کی سکیورٹی اور امریکا اسرائیل تعاون سمیت متعدد اہم معاملات زیر غور آنے کا امکان ہے۔