جانسن اینڈ جانسن کی بیبی پاؤڈر مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر تک کی پیشکش
اس کی ٹیلک پر مبنی مصنوعات محفوظ ہیں اور ان کے کینسر کا سبب بننے کے شواہد موجود نہیں۔
امریکی صحت و ادویات بنانے والی کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر سے متعلق ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب ڈالر تک ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی کی بعض ٹیلک مصنوعات کے استعمال سے رحم کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا۔
کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز برسوں سے جاری قانونی تنازع کو ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ جانسن اینڈ جانسن کا مؤقف ہے کہ اس کی ٹیلک پر مبنی مصنوعات محفوظ ہیں اور ان کے کینسر کا سبب بننے کے شواہد موجود نہیں۔
کمپنی کے نائب صدر ایرک ہاس نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم طویل قانونی کارروائی سے بچنے اور اس معاملے کو حتمی طور پر نمٹانے کے لیے تصفیے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
جانسن اینڈ جانسن کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آئندہ سال تک 3 ارب ڈالر تک ادا کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم بعد کے مرحلے میں دی جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو حتمی شکل دینے سے قبل ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں زیر سماعت رحم کے کینسر سے متعلق تقریباً 95 فیصد دعووں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرموں کی منظوری ضروری ہوگی۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اسے یقین ہے کہ وہ عدالتوں میں بیشتر مقدمات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے، تاہم تصفیے کے ذریعے اس طویل قانونی تنازع کا خاتمہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے تاکہ کمپنی اپنی طبی تحقیق، ادویات اور طبی آلات کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔
جانسن اینڈ جانسن نے حالیہ برسوں میں اپنے روایتی ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر کے فارمولے میں بھی تبدیلی کی ہے، تاہم کمپنی مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ اس کی مصنوعات محفوظ ہیں، ان میں ایسبیسٹوس شامل نہیں اور سائنسی شواہد انہیں کینسر سے منسلک نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ کمپنی کے خلاف ٹیلک مصنوعات سے متعلق قانونی کارروائیاں 2009 سے جاری ہیں، جبکہ متعدد صارفین اور متاثرہ خاندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیلک مصنوعات میں مبینہ آلودگی کے باعث انہیں کینسر لاحق ہوا۔ دوسری جانب کمپنی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔