افغانستان میں طالبان کے سینئر عہدیدار ذبیح اللہ امیری قاتلانہ حملے میں ہلاک
واقعہ ضلع بہارک میں اس وقت پیش آیا جب ذبیح اللہ امیری اپنے دفتر جا رہے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے بہارک۔فیض آباد شاہراہ پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی
کابل: افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان حکومت کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح افراد کے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کا ایک محافظ زخمی ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ضلع بہارک میں اس وقت پیش آیا جب ذبیح اللہ امیری اپنے دفتر جا رہے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے بہارک۔فیض آباد شاہراہ پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
مقامی حکام کے مطابق حملے کے فوراً بعد ذبیح اللہ امیری کے محافظوں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک حملہ آور مارا گیا، جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملے کے محرکات یا ذمہ دار عناصر کے بارے میں تاحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ حملے کے پس منظر کا تعین کیا جا سکے۔
تاحال کسی فرد یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ طالبان حکام نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا حملہ کسی مخصوص گروہ سے منسلک تھا یا نہیں۔
ذبیح اللہ امیری طالبان حکومت کی نمایاں میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
واضح رہے کہ صوبہ بدخشان میں ماضی میں بھی متعدد سیکیورٹی واقعات پیش آ چکے ہیں، جبکہ بعض طالبان مخالف گروہوں نے حالیہ دنوں میں علاقے میں جھڑپوں کے دعوے کیے ہیں۔ تاہم موجودہ حملے سے کسی گروہ کا تعلق تاحال ثابت نہیں ہو سکا۔