امریکہ کا ایران پر جوابی حملہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی

یہ حملے اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے ردِعمل میں کیے گئے

July 30, 2026 · بام دنیا

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج پر مبینہ حملے کی کوشش کے جواب میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی ہے۔

سینٹکام کے مطابق یہ حملے اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کے ردِعمل میں کیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں تعینات امریکی افواج اور مفادات کا دفاع کرنا تھا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور سعودی عرب نے حال ہی میں عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے اور ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا۔ ایرانی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں چند آئل ٹینکروں کے خلاف کارروائی کی، جن پر ایرانی انتباہات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کارروائی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں ایران کو سخت جواب دینے کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کئی ماہ سے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے دوران سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں نے ایک بار پھر صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں جانب سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔