ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں،رویوں میں تبدیلی ہے،مارکو روبیو
ایران اپنے رویوں اور پالیسیوں میں ایسی تبدیلی لائے جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو اور بین الاقوامی خدشات کا ازالہ ممکن ہو۔
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران میں “حکومت کی تبدیلی” سے مراد لازمی طور پر موجودہ نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کے طرزِ عمل، پالیسیوں اور علاقائی کردار میں تبدیلی ہے۔
ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی توجہ اس بات پر ہے کہ ایران اپنے رویوں اور پالیسیوں میں ایسی تبدیلی لائے جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو اور بین الاقوامی خدشات کا ازالہ ممکن ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کی علاقائی پالیسیوں نے طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو متاثر کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان پالیسیوں میں تبدیلی آئے۔
مارکو روبیو کے مطابق “حکومت کی تبدیلی” اور “نظام کی مکمل تبدیلی” دو مختلف تصورات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی حکومت کے رویے میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے، جبکہ کسی مخصوص معاہدے پر عملدرآمد کی جانچ نسبتاً آسان ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہے، تاہم کسی ریاست کی علاقائی حکمت عملی یا پالیسیوں میں دیرپا تبدیلی لانے کے لیے مسلسل سفارتی اور سیاسی دباؤ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ معاملات میں اپنی پالیسی کا مرکز اس کے رویے اور علاقائی کردار میں تبدیلی کو سمجھتا ہے، نہ کہ لازماً موجودہ نظام کے خاتمے کو۔