ایران آئندہ دو برس کے ممکنہ چیلنجز کے لیے تیار ہے، نائب صدر
اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہیں گے
تہران: ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک آئندہ دو برسوں میں ممکنہ سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کر رہا ہے، جبکہ حکومت مختلف شعبوں میں ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایک بیان میں محمد رضا عارف نے کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی اور دیگر چیلنجز کے باوجود انتظامیہ نے عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کسی بڑی رکاوٹ کو جنم نہیں لینے دیا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے وسیع علاقائی اور عالمی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی نظام کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔