برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی: ایران
امریکا نے ایک مفاہمتی فریم ورک کے تحت بحری آمد و رفت کی بحالی کی اجازت نہیں دی اور طے شدہ مدت مکمل ہونے سے پہلے کارروائی کی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق جاری سفارتی رابطوں میں بعض یورپی ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی ممکنہ فوجی تنازع میں فریق نہیں بنیں گے۔
ایک انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی جانب سے ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ صورتحال امریکی وعدوں کی مبینہ خلاف ورزی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایک مفاہمتی فریم ورک کے تحت بحری آمد و رفت کی بحالی کی اجازت نہیں دی اور طے شدہ مدت مکمل ہونے سے پہلے کارروائی کی۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران عمان کے ساتھ متبادل بحری راستوں کے حوالے سے بھی بات چیت کر رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی بحالی کا معاملہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے الگ ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف فریق مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثالث اس بات سے آگاہ ہیں کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اسی لیے سفارتی کوششوں کا مرکز بھی یہی مسئلہ بنا ہوا ہے۔