واپڈا ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت بحال کرنے کی درخواستیں مسترد

مفت بجلی یونٹس ملازمین کا کوئی مستقل یا ناقابلِ تنسیخ قانونی حق نہیں تھے بلکہ یہ ایک انتظامی سہولت تھی،پشاور ہائیکورٹ

August 3, 2026 · قومی

جنوبی اضلاع دہشتگردی کی وجہ سے جل رہے ہیں، ڈی آئی خان، کرک، ٹانک میں کوئی جا نہیں سکتا، میں خود سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ڈی آئی خان نہیں جاسکا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ/ فائل فوٹو

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے واپڈا ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت بحال کرنے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مفت بجلی یونٹس کی فراہمی ملازمین کا مستقل یا اٹل قانونی حق نہیں۔

عدالت نے مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس سہولت کے بدلےمالی الاؤنس دینے کے فیصلے کو قانونی قرار دیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کر کے اس کے متبادل کے طور پر مالی الاؤنس دینے کا فیصلہ قانونی اختیار کے تحت کیا، لہٰذا اس میں عدالتی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ مفت بجلی یونٹس ملازمین کا کوئی مستقل یا ناقابلِ تنسیخ قانونی حق نہیں تھے بلکہ یہ ایک انتظامی سہولت تھی، جسے بدلتے معاشی حالات، سرکاری پالیسی اور قومی مفاد کے پیش نظر تبدیل یا ختم کیا جا سکتا ہے۔نگران حکومت کا اقدام پالیسی کے تسلسل اور انتظامی اصلاحات کے تناظر میں کیا گیا تھا، اس لیے اسے غیر قانونی یا آئین سے متصادم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پشاور ہائیکورٹ نے ان دلائل کی روشنی میں واپڈا ملازمین کی تمام متعلقہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔