بیٹے کو قتل کیا گیا، خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے، والد میر رضا علی
بیٹے کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود تھے اور تحقیقات میں تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جانا چاہیے۔
کراچی: پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کے رہائشی میر رضا علی خان کی موت کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا، جبکہ اہلخانہ نے واقعے کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میر رضا علی کے والد حسین رضا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیٹے کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود تھے اور تحقیقات میں تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جانا چاہیے۔
حسین رضا نے میڈیکل رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں صرف گولی لگنے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ممکنہ شواہد کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا اور اگلے روز اس کی لاش ملی، اس دوران وہ کہاں رہا، اس پہلو کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
والد کے مطابق گھر سے روانگی کے وقت میر رضا نے اپنی بہن سے بات کی تھی، جبکہ ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ وہ سفر کے دوران معمول کے مطابق خوش دکھائی دے رہا تھا۔
اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
:::