میر رضا کیس سے نام جوڑنے پر شرجیل میمن نے سائبر کرائم کو درخواست دیدی
گیسٹ ہاؤس کی ملکیت کا دعویٰ جھوٹا قرار سوشل میڈیا پر مظاہرہ منظم کرنے کی کوششیں۔ قافلہ بن رہا ہے فاروق ستار
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے کیس میں سوشل میڈیا پر بحث تیز ہے۔ پچھلے کچھ گھنٹے میں سوشل میڈیا پر اس گیسٹ ہاؤس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات کیے گئے جہاں سے لاش ملی تھی۔ اس کے بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 9 اگست 2026 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے / NCCIA) کراچی زون میں اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف منظم کردارکشی اور جھوٹے الزامات پر تحریری شکایت جمع کرائی ہے۔
شکایت میں نامعلوم افراد/اکاؤنٹس پر الزام ہے کہ وہ جعلی مواد پھیلا کر ساکھ متاثر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ دعوے کہ میر رضا کو جس گیسٹ ہاؤس (گلستان جوہر) میں تشدد/قتل کیا گیا وہ شرجیل میمن کی ملکیت ہے، بیٹا فوری لندن روانہ ہو گیا، اور میڈیکل بورڈ راتوں رات تبدیل کیا گیا—ان سب کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ کچھ فیس بک اکاؤنٹس/پیجز (جیسے Muhajir Community وغیرہ) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ گیسٹ ہاؤس کی ملکیت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہرے منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی کہا ہے کہ کہ میر رضا کے انصاف کے لیے نوجوانوں کا ایک قافلہ بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 سال سے شہر میں بدترین حکمرانی ہے، میر رضا کی موت کی تحقیقات کا رخ موڑا گیا، ایم کیو ایم اس کی شدید مذمت کرتی ہے اور خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔