برطانوی بحریہ کے زیراستعمال جاسوس ڈرونزکا ڈیٹا چین کو منتقل کیےجانےکا انکشاف
چین کی جانب سے برطانوی فوج کی کئی برسوں سےجاسوسی کی کوششوں پرخدشات بڑھ گئے ہیں
فائل فوٹو
لندن: برطانوی بحریہ کے زیر استعمال جاسوس ڈرونز کا ڈیٹا چین کو منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق ان ڈرونز کے کیمروں کے اندر چین میں تیار ایسے پرزے نصب تھے جو حساس ڈیٹا چین کے ایک آئی پی ایڈریس پر منتقل کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 سے 12 ملین پونڈز مالیت کے یہ کے تھری اسکاوٹ ڈرونز برطانوی ایلیٹ اسپیشل فورسز کے زیر استعمال تھے۔
اخبار کے مطابق ڈیٹا منتقلی کے انکشاف پر برطانوی وزارت دفاع کو فوراً ڈرونز کےکیمرے انٹرنیٹ سے ڈس کنیکٹ کرنا پڑے تھے۔
اس معاملے سے واقف ایک دفاعی ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ یہ ڈرونز مستقبل میں برطانیہ کی جانب سے خلیج میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی یقینی بنانےکے لیے پیش کیے جانے والے ایک دفاعی پیکج کا حصہ تھے۔
یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ نگرانی کرنے والے یہ ڈرونز اسپیشل فورسز کے اعلیٰ افسران کی انتہائی حساس ملاقاتوں کے قریب موجود رہے، جب کہ بعض صورتوں میں ڈرونز بند ہونے کے باوجود ان کے کیمرے فعال رہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق اس انکشاف کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ چین کئی برسوں سے برطانوی فوج کی جاسوسی کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم وزارت دفاع نے اصرار کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حساس معلومات یا نظام سے متعلق ڈیٹا بیرون ملک بھیجا گیا ہو۔ وزارت دفاع نے کہا ہےکہ محکمہ اپنے آلات، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کی سکیورٹی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور کوئی ڈیٹا متاثر یا افشا نہیں ہوا۔
گزشتہ ماہ ٹیلی گراف نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ اسی طرح کے جاسوسی خدشات کے باعث اسپیشل فورسز نے اپنے ہیڈکوارٹرز میں چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔