عمان کے ساحل پر تیل پھیلنے لگا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہونے کا خدشہ
تقریباً 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل لے جانے والا آئل ٹینکر 30 جون کو عمانی ساحل کے قریب پھنس گیا تھا۔ مذکورہ جہاز پر بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد ہیں۔
عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل ساحلی علاقوں تک پہنچ گیا ہے اور اس کے پھیلاؤ سے تقریباً 40 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق تیل کے رساؤ کا دائرہ عمان کے علاقے رأس المدرکہ اور جزیرہ مصیرہ کے اطراف تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل کا پھیلاؤ جاری رہا تو یہ حالیہ برسوں کے بڑے سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
تیل کے رساؤ سے متعلق سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے ماہرین کے مطابق آلودگی کا پھیلاؤ 2 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ سمندری رقبے تک پہنچ چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل لے جانے والا آئل ٹینکر 30 جون کو عمانی ساحل کے قریب پھنس گیا تھا۔ مذکورہ جہاز پر بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد ہیں۔
تیل کا رساؤ ایک ایسے جزیرے کے قریب ہورہا ہے جو عمان کے سمندری قدرتی محفوظ علاقے کا حصہ ہے۔ اس خطے میں بحیرۂ عرب کی ہمپ بیک وہیل اور سوکوٹرا کارمورینٹ سمیت مختلف نایاب سمندری اور پرندوں کی انواع پائی جاتی ہیں۔
بحری ذرائع کے مطابق ٹینکر نے 8 جون کو یمن کے ساحل کے قریب مشکلات کی اطلاع دی تھی، جبکہ ابتدائی معلومات سے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاز کو کسی دھماکے کے نتیجے میں نقصان پہنچا۔
تاحال کسی فریق نے ٹینکر کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
معلومات کے مطابق یہ جہاز اپریل میں روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہوا تھا اور اسے روسی تیل کی نقل و حمل کرنے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین کی جانب سے ایسے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔