مودی حکومت میں سکھوں کی صورتحال تشویشناک ہے،گرپتونت سنگھ پنوں
بھارت میں مالی مشکلات اور بھاری قرضوں کے باعث 18 ہزار سکھ کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں پیش نہیں کی گئی۔
لاہور: سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی حکومت پر سکھ برادری کے خلاف مبینہ مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
لاہور پریس کلب میں ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں بھارت میں سکھوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں مالی مشکلات اور بھاری قرضوں کے باعث 18 ہزار سکھ کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں پیش نہیں کی گئی۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ ان کی تنظیم خالصتان کے قیام کے لیے سیاسی اور ووٹنگ کے ذریعے تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق خالصتان کے قیام سے متعلق ریفرنڈم 16 اگست کو امریکا میں منعقد ہوگا، جس میں امریکا سمیت دیگر ممالک میں مقیم سکھوں کو ووٹ دینے کا موقع ملے گا۔
سکھ فار جسٹس کے رہنما نے پاکستان کے یومِ آزادی پر پاکستانی عوام کو مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے پاکستان کی موجودہ قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں اور سکھ فار جسٹس کی جانب سے بھارت میں سکھوں کے حقوق اور خالصتان کے قیام سے متعلق مہم چلائی جاتی رہی ہے، جبکہ بھارتی حکومت اس تنظیم کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔